120+ Badmashi Poetry In Urdu 2025
بدماشی صرف رویہ نہیں، بلکہ ایک اندازِ زندگی ہے جو خود اعتمادی اور دبنگ شخصیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی خاموشی سے پہچانے جاتے ہیں، اور کچھ اپنی Badmashi Poetry In Urdu سے۔ اس شاعری میں غیرت، خودداری، اور دلیری کے وہ رنگ جھلکتے ہیں جو صرف بہادر دلوں کے حصے میں آتے ہیں۔ یہاں آپ کو ایسے اشعار ملیں گے جو سڑکوں کی بولی نہیں بلکہ کردار کی طاقت کو بیان کرتے ہیں۔ یہ شاعری اُن لوگوں کے لیے ہے جو بات کم اور اثر زیادہ رکھتے ہیں۔
Badmashi Poetry In Urdu
ہر وقت مسکراتا ہوں تو سمجھتے ہو کمزور ہوں
کبھی میری آنکھ میں جھانک کے دیکھو موت ملی گی
Har waqt muskurata hoon to samajhte ho kamzor hoon
Kabhi meri aankh mein jhaank ke dekho, maut milegi

کسی کی محبت نے بدمعاش بنا دیا
ورنہ ہم تو معصوم لوگ تھے
Kisi ki mohabbat ne badmash bana diya
Warna hum to masoom log thay
لفظ میرے تلوار ہیں
اور خاموشی میری بندوق
Lafz mere talwar hain
Aur khamoshi meri bandook
میں ٹھنڈا ضرور ہو گیا ہوں
پر آگ اب بھی اندر زندہ ہے
Main thanda zaroor ho gaya hoon
Par aag ab bhi andar zinda hai
نہ کبھی جھکا ہوں نہ کسی سے ڈرتا ہوں
بس اللہ سے ڈر لگتا ہے اور ماں سے پیار
Na kabhi jhuka hoon na kisi se darta hoon
Bas Allah se dar lagta hai aur maa se pyar
تیرے جیسے کئی آئے، کئی گئے
میں وہی ہوں، جہاں تھا وہیں ہوں
Tere jese kai aaye, kai gaye
Main wahi hoon, jahan tha wahan hoon
تجھ سے کیا ٹکرانا جو خود سے ہی نہ جیت سکا
میں وہ ہوں جو خود کی بربادی سے کھیلتا ہے
Tujh se kya takraana jo khud se hi na jeet saka
Main woh hoon jo khud ki barbadi se khelta hai
زہر تو لوگ دیتے ہیں
ہم تو نگاہوں سے ہی کام تمام کر دیتے ہیں
Zehar to log dete hain
Hum to nigaahon se hi kaam tamaam kar dete hain
Badmashi Poetry In Urdu Text
خاموشی ہماری طاقت ہے، شور دشمنوں کا ہوتا ہے۔
ہم وہ لوگ ہیں جو نظریں نہیں، نظریہ بدل دیتے ہیں
بدماش وہی جو وقت پہ کام آئے،
نام نہیں، کردار سے پہچانا جائے۔
نہ وقت کی پرواہ ہے، نہ دنیا کی فکر،
ہم وہ ہیں جو اپنی دنیا آپ بناتے ہیں۔

ہماری مسکراہٹ کو مت سمجھ کمزوری،
یہ وہ زہر ہے جو دشمنوں کو جلا دیتا ہے۔
دشمنی ہم شوق سے نہیں کرتے،
مگر نبھاتے ایسے ہیں کہ یاد رہ جائے۔
انداز ہمارا الگ اور باتوں میں وزن ہے،
ہم ہر دل پہ حکومت کرنے کا فن رکھتے ہیں۔
ہم وہ آئینہ ہیں جو چہروں کو دکھاتے ہیں،
سچ بولتے ہیں، اسی لیے برا لگتے ہیں۔
لفظوں سے نہیں، عمل سے پہچانے جاتے ہیں،
ہم بدماش لوگ ہیں، خاموش رہ کر کام کرتے ہیں۔
دوستی دل سے اور دشمنی دماغ سے کرتے ہیں،
ہم وہ ہیں جو لحاظ میں بھی حساب رکھتے ہیں۔
بدنامی کا شوق نہیں، بس لوگ جلاتے ہیں،
ہم وہ چراغ ہیں جو خود نہیں بجھتے۔
ہماری دوستی جیت دیتی ہے، دشمنی ہار مان لیتی ہے،
ہم بدماش ضرور ہیں مگر دل صاف رکھتے ہیں۔
چاہنے والے ہزاروں ہوں یا ایک،
ہم وہ ہیں جو دل سے نبھاتے ہیں۔
ہمیشہ وہی لوگ بدنام ہوتے ہیں،
جو کچھ کرنے کا دم رکھتے ہیں۔
اپنے اصولوں پر جیتے ہیں،
کبھی کسی کے اشارے پر نہیں چلتے۔
نہ سر جھکایا کبھی، نہ جھکنے دیا،
ہم نے ہمیشہ وقت کو سلام کروایا۔
ہمارا مزاج وقت کے ساتھ نہیں،
اصولوں کے ساتھ بدلتا ہے۔
ہم بدماش نہیں، وقت کے استاد ہیں،
جسے سکھایا، وہی آج دشمن بنا بیٹھا ہے۔
Badmashi Poetry In Urdu SMS
محبت ہو یا دشمنی، دونوں دل سے کرتے ہیں،
ہم وہ لوگ ہیں جو مروت میں بھی غضب ڈھاتے ہیں۔
ہر سوال کا جواب رکھتے ہیں،
بس خاموشی سے وقت آنے کا انتظار کرتے ہیں۔
نہ ہاتھ میں تلوار ہے، نہ آنکھوں میں خوف،
پھر بھی دشمن ہم سے ڈرتے ہیں۔
ہماری نظر کمزور ہو سکتی ہے،
پر نگاہوں کا انداز نہیں بدلتا۔
آج جو ہمیں نیچا دکھانا چاہتے ہیں،
کل ہماری داستانیں سناتے تھے۔
بدلے کی آگ نہیں، ہم تو آئینہ ہیں،
جو جیسا ہو، ویسا دکھاتے ہیں۔
ہم سے دشمنی کا مطلب، اپنی نیندوں کو بھول جاؤ،
کیونکہ ہم خوابوں میں بھی آ جاتے ہیں۔
ہم وہ نہیں جو وقت کے ساتھ بدل جائیں،
ہم وہ ہیں جو وقت کو بدل دیتے ہیں۔
بات کرنے سے پہلے سوچا کرو،
کیونکہ ہماری خاموشی بھی وار کرتی ہے۔
ہم وہاں کھڑے ہوتے ہیں جہاں لوگ جھک جاتے ہیں،
ہم وہ ہیں جو عزت سے جیتے ہیں۔
تمہارے جیسے کئی آئے اور چلے گئے،
ہم وہ ہیں جو ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔
ہماری آنکھوں میں خواب نہیں، حقیقت چھپی ہوتی ہے،
اسی لیے لوگ ڈرتے ہیں ہم سے۔
نہ ہم تم جیسے ہیں، نہ تم ہمارے جیسے،
تو اپنا راستہ لو، ہم اپنے اصول رکھتے ہیں۔
جو دل میں ہوتا ہے وہ زبان پر ہوتا ہے،
اسی لیے سچ بولنے والے بدماش کہلاتے ہیں۔
ہم وہ ہیں جو اپنے وعدے نہیں توڑتے،
چاہے خود ٹوٹ جائیں۔
دنیا سے نہیں ڈرتے، صرف رب سے ڈرتے ہیں،
کیونکہ باقی سب فانی ہے۔
ہمیں ہرانا آسان نہیں،
کیونکہ ہم خود سے بھی مقابلہ کرتے ہیں۔
نہ گھمنڈ ہے نہ غرور،
بس اپنے اصولوں پر ناز ہے۔
جو ہماری قدر نہیں کرتے،
ہم اُنہیں نظر انداز کرنا سیکھ چکے ہیں۔
دشمنی کی حد تک جا سکتے ہیں،
مگر دوستی میں جان دے سکتے ہیں۔
ہم وہ لوگ ہیں جو سایہ بھی چھوڑ دیتا ہے،
پر ہم ساتھ نہیں چھوڑتے۔
Attitude Boys Badmashi Poetry
ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھ،
یہ وہ طوفان ہے جو سب بہا لے جاتا ہے
ہم سے ٹکرانے کا سوچنا بھی مت،
کیونکہ ہماری سوچ بہت آگے کی ہے۔
ہم بات کم کرتے ہیں، کام زیادہ،
اسی لیے دشمن زیادہ اور دوست خاص ہوتے ہیں۔
ہمارا اصول ہے، یا تو دل میں یا دماغ سے باہر،
درمیان کا کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔

ہم وہ ہیں جو آئینے سے سچ بولتے ہیں،
جھوٹ سے نفرت کرتے ہیں۔
تم چاہو یا نہ چاہو، ہم یاد رکھے جائیں گے،
کیونکہ ہم عام لوگوں جیسے نہیں۔
ہماری دوستی پانی جیسی صاف اور،
دشمنی آگ جیسی خطرناک ہوتی ہے۔
بدنامی کی پرواہ نہیں کرتے،
ہم وہ ہیں جو بدنامی میں بھی نام کماتے ہیں۔
ہم سے مقابلہ کرو، مگر برابر آ کر،
کیونکہ نیچے والوں سے نظر نہیں ملاتے۔
نہ ہمارے جیسا کوئی ہے، نہ ہوگا،
ہم وہ ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔
ہم وہ ہیں جو اپنی راہوں میں خود رکاوٹیں بناتے ہیں،
مگر کسی اور کو ہمارے راستے پر چلنے نہیں دیتے۔
ہم سے پنگا لینے کا مطلب ہے خطرہ مول لینا
ہم مسکرائیں بھی تو لوگ ڈر جایا کرتے ہیں
ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھنا
وقت آنے پر آواز بھی گرجدار ہوتی ہے
You can also read Attitude Shayari In English
ہمیں مت سکھا بدمعاشی کا قانون
اگر ہم نے شرافت چھوڑ دی
تو تم وکیل ڈھونڈتے رہ جاؤ گے
سنا ہے تم بدمعاشی کی باتیں بہت سنایا کرتے ہو
جب ہم سے ٹکراؤ گے انشاءاللہ سدھر جاؤ گے
بدمعاشی ان سے کر جو تجھ سے ڈرتے ہیں
ہمارے نام سے تو تیرے بڑے بھی ڈرتے ہیں
تیری بدمعاشی کا سورج چاہے جتنا مرضی بلندی پہ چمکے
ہماری حدود میں چمکا تو ڈُوب جائے گا
خرچے کریں تے چرچے ہوندے ویر
بدمعاشی کریں تے پرچے ہوندئے
بدماشی دی گل نہیں کرنی پترا
سانوں تیری بندوق تو ود اپنے غصے توں ڈر لگدائے
اور تم کرتے ہو باتوں سے بدمعاشی
ہماری خاموشی سے بڑا استاد کوئی نہیں
جے سکھ گئے او تھوڑی جئی بدمعاشی
تے اے نہ بھل جانا کہ تواڈا پیو کون اے
بدمعاشی تو بدمعاش کرتے ہیں صاحب
ہم تو شہزادے ہیں سب کے دلوں پہ راج کرتے ہیں
سنا ہے تم بدمعاشی کی باتیں بہت سنایا کرتے ہو
جب ہم سے ٹکراؤ گے شریکو سدھر جاؤ گے
ہمیں غرض نہیں تیری بدمعاشی سے
ہمارا نام تو تو نے سنا ہوگا
شریف تو ہم بچپن سے ہیں مگر
بدماشی کسی کے باپ کو بھی نہیں کرنے دیتے
لہریں سمندر سے اٹھتی ہیں کناروں سے نہیں
بدمعاشی ہمت سے ہوتی ہے سہاروں سے نہیں
بدمعاشی کی بات مت کرنا بیٹا
لوگ تیری بندوق سے زیادہ ہماری آنکھوں سے ڈرتے ہیں
آج کل وہ بچے بھی بدمعاشی کا اسٹیٹس ڈال رہے ہیں
جن کو ابھی حفاظتی ٹیکے بھی پورے نہیں لگے

